ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / الیکشن کمشنر ارون گوئل کےاچانک استعفیٰ پر کانگریس اور اویسی نے سوال اُٹھائے

الیکشن کمشنر ارون گوئل کےاچانک استعفیٰ پر کانگریس اور اویسی نے سوال اُٹھائے

Mon, 11 Mar 2024 11:39:11    S.O. News Service

نئی دہلی، 11/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) اپنے ریٹائرمنٹ سے قبل اور عین عام انتخابات کے اعلان سے قبل الیکشن کمشنر ارون گوئل کے مستعفی ہوجانے سے کئی سوال کھڑے ہوگئےہیں۔ ایسی صورت میں یہ سوالات مزید شدید ہوجاتے ہیں جب وہ آئندہ سال فروری میں موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ریٹائر ہونے کے بعد ان کی جگہ لینے والے تھے۔ شاید اسی لئے کانگریس نے ان سے پوچھا ہے کہ اس قدر جلد بازی میں استعفیٰ دے کر کلکتہ ہائی کورٹ کے جج کی مانند بی جے پی کے امیدوار کے طور پر لوک سبھا کا الیکشن لڑنے والےتو نہیں ؟ اس معاملے میں کانگریس کے ساتھ ساتھ رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ 

  کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے ارون گوئل کے استعفیٰ پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ اس میں انہوں نے سوال کیا کہ ’’الیکشن کمیشن یا الیکشن کی گمشدگی؟ ملک میں اب صرف ایک الیکشن کمشنر ہے جبکہ چند ہی دنوں میں لوک سبھا کے انتخابات کا اعلان ہونا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر آزاد اور خود مختار اداروں کی ’’منظم تباہی‘‘ نہ روکی گئی تو آمریت کے ذریعے جمہوریت پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ جبکہ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جئے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر اس ضمن میں تین سوالات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کیا انہوں نے (ارون گوئل) واقعتاً چیف الیکشن کمشنر یا مودی حکومت سے اختلاف کی وجہ سے استعفیٰ دیا ہے ؟ کیا انہوں نے اپنی کسی ذاتی وجہ سے استعفیٰ دیا ہے؟ کیا انہوں نے کچھ دنوں قبل کلکتہ ہائی کورٹ کے جج کی مانند بی جے پی کے ٹکٹ پر آئندہ لوک سبھا انتخابات لڑنے کے لئے استعفیٰ دیا ہے؟‘‘ جئے رام رمیش نے مزید کہا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن نے ۸؍ ماہ سے ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل یعنی وی وی پیٹ کے معاملے پر ملک کی سیاسی جماعتوں سے ملاقات کرنے سے انکار کر رکھا ہے جبکہ پی ایم مودی کا ہندوستان میں ہر گزرتا دن جمہوریت اور جمہوری اداروں کو ایک اضافی دھچکا دے رہا ہے۔ 

  واضح رہے کہ ارون گوئل کی مدت کار ۵؍دسمبر ۲۰۲۷ء تک تھی اور اگلے سال فروری میں وہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کے ریٹائر ہونے کے بعد چیف الیکشن کمشنر بننے والے تھے۔ اسی سال فروری میں انوپ چندر پانڈے کے ریٹائرمنٹ اور ارون گوئل کے استعفیٰ کے بعد تین رکنی الیکشن کمیشن میں اب صرف ایک رکن رہ گیا ہے۔ 

 ایم آئی ایم صدر اویسی نے ردعمل دیا کہ ’’ارون گوئل کو وجہ بتانی ہو گی کہ انہوں نے اچانک اور عین موقع پر ایسا فیصلہ کیوں کیا ؟مودی حکومت کو بھی اس تعلق سے جواب دینا چاہئے کیوں کہ یہ ملک میں الیکشن کی ساکھ کا سوال ہے۔ ‘‘یاد رہے کہ ارون گوئل کی بطور کمشنر تقرری بھی انتہائی متنازع رہی تھی۔ 


Share: